• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

غیرمنقسم ہندوستان میں قائداعظم کی قیادت میں قیام پاکستان کی جو تحریک چلی، اس کی بنیاد مسلم قومیت کے نظریے پرتھی۔ انگریزوں اور ہندوئوں کے مقابلے میں جو تمام ہندوستانیوں کو ایک قوم قرار دے کر اکھنڈ بھارت کے حق میں تھے، قائداعظم نے پورے زوروشور اور دلائل کی روشنی میں یہ نعرہ لگایا کہ ہندوستان میں دو قومیں بستی ہیںایک مسلم اور دوسری غیرمسلم۔ مسلمان رہنمائوں، اہل فکر اورعلمائے کرام نے اس کی بھرپورتائید کی۔ میرے بچپن میں ’’پاکستان کامطلب کیا؟ لا الہ الااللہ‘‘ کی جو صدائیں گونجتی تھیں، ان کی دلکش یاد آج بھی کانوں میں محفوظ ہے۔ آخرکار مسلم اکثریت نے قائداعظم کی اس پکار پر لبیک کہا اور ناقابل فراموش قربانیوں کے بعد ہمالیہ کے دامن میں ارض پاک ایک حقیقت بن کر ابھری۔ نظریہ پاکستان کی بنیاد تو واضح تھی، لیکن ایک چھوٹا ساحلقہ فکری انتشار کی کوشش کرتا تھا، چنانچہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے دستور پاکستان کے لیے وہ قرارداد مقاصد بااتفاق منظور کی جس نے ملک کا رخ واضح طور پر متعین کردیاکہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور عوام کے منتخب نمایندے اپنے اختیارات قرآن وسنت کی حدود میں رہ کر استعمال کرسکیں گے۔ یہ قرارداد 1954ئ، 1956ئ، 1962ء اور1973ء کے تمام دستوری مسودوں کاالفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ لازمی جز بنی رہی اور آج بھی وہ ہمارے دستور کی وہ دستاویز ہے جس پر ہم فخر کرسکتے ہیں۔

چوتھائی صدی تک بنتی ٹوٹتی اسمبلیوں میں بھی اورباہر بھی اس پر کھلے دل سے بحث ومباحثہ بھی ہوااور بالآخر اس پر پورے ملک کااتفاق ہوگیا پھر اس کی بنیاد پر دستور کی تشکیل کا مرحلہ آیا تویہ دفعہ بھی تمام مسودات دستور میں کسی قابل ذکر اختلاف کے بغیر موجود رہی کہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں بنایاجاسکے گا اور موجودہ قوانین کو بھی ان کے سانچے میں ڈھالا جائے گا۔ 1973ء کادستور جوآج بھی نافذ ہے، اس وقت کے تمام سیاسی اور دینی حلقوں کے اتفاق سے منظور ہوا، اور اس پرآج بھی تمام سیاسی پارٹیاں متفق ہیں اور اس کا مکمل تحفظ چاہتی ہیں جس کا مظاہرہ ا وراس کی مزید تاکید حال ہی میںحزب اقتدار اور حزب اختلاف کے تاریخی اتفاق سے دوبارہ ہوگئی ہے، اعلیٰ عدالتوں نے بھی اس دستور کی بنیادی روح کالازمی حصہ قرار دیاہے۔


اب کچھ عرصے سے کچھ آوازیںپھر گونجنے لگی ہیں کہ ملک کواس دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے اسے سیکولر بناناچاہیے، یعنی نصف صدی سے زائد جوفکری، سیاسی اور عملی جدوجہد ملک کاصحیح رخ متعین کرنے کے لیے ہوئی ہے، اس کی بساط لپیٹ کر پھرالف باسے آغاز کرناچاہیے۔ایک ایسے موقع پر جب ملک کے تمام طبقات دہشت گردی کے عفریت کو مل کر شکست دینے کے لیے کمربستہ ہیں ملک کی بنیاد، اس کے قیام کے نظریے اور اس کے متفقہ رخ کو تبدیل کرنے کی کوشش اس فضا میں جو پنڈورا بکس کھول سکتی ہے، اوراس سے جو انتشار جنم لے سکتاہے، اس کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔

اسی فضا میں سیکولرازم کے حامی حضرات جوکچھ فرمارہے ہیں، اس کی بازگشت مذہب کے نام پر ایک مذہبی بیانیہ کے عنوان سے جناب جاوید احمد غامدی کے نام سے سامنے آئی ہے جو روزنامہ جنگ کے 22 جنوری کے شمارے میں ’’اسلام اور ریاست، ایک جوابی بیانیہ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے ’’سیکولرازم کی تبلیغ‘‘ کے بجائے اپنے افکار کو ’’مذہبی بیانیہ‘‘ قرار دیا ہے۔ اس ’’بیانیہ‘‘ کامقصد انہوں نے شروع ہی میں یہ بیان فرمایا ہے کہ سیکولرازم کی تبلیغ نہیں، بلکہ مذہبی فکرکاایک جوابی بیانیہ ہی صورتحال کی اصلاح کرسکتاہے۔ ’’اس جوابی بیانیے (Counter narrative) کے جونکات انہوں نے بیان فرمائے ہیں، ان کو بار بار پڑھنے کے باوجود مجھے شاید اپنی کم فہمی کی وجہ سے وہ ایک عجوبے سے کم نہیں لگتے اوران کے باہمی تضادات سے مجھے بہت سی تاویلات کے باوجود چھٹکارا نہیں مل سکا۔ اس مضمون میں یوں تو بہت سی باتیں قابل تبصرہ ہیں، لیکن ان تمام نکات پر تبصرہ بہت طول چاہتا ہے جس کایہ مضمون متحمل نہیں،، لیکن ان میں سے چند متضاد نکات اوران کے مضمرات کی طرف توجہ دلاناضروری معلوم ہوتاہے کیونکہ وہ نکات نہ صرف پاکستان کے قیام کے نظریے ہی کی نفی کرتے ہیں، بلکہ ملک کو ایک ایسے ڈھیلے ڈھالے نظام اجتماعی کی طرف دعوت دیتے ہیں جن کے عملی اطلاق کی کوئی معقول صورت کم از کم مجھ کم فہم کی سمجھ میں نہیں آسکی۔ سب سے پہلے نکتے میں انہوں نے ارشاد فرمایاہے کہ ’’یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے کہ ریاست کابھی کوئی مذہب ہوتاہے، اور اس کو بھی کسی قرارداد مقاصد کے ذریعے سے مسلمان کرنے اور آئینی طور پر اس کا پابند بنانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس میں کوئی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں بنایاجائے گا۔ ‘‘ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے آئین میں جو قرارداد مقاصد درج ہے، یااس میں جو پابندی عائد کی گئی ہے کہ کوئی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا، یہ قطعی طورپر نہ صرف غیرضروری،

بلکہ بے بنیاد خیال پر مبنی ہے۔قرارداد مقاصد کابنیادی تصور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کااقرار ہے، اور اسے غیرضروری اور بے بنیاد قرار دینے کا نتیجہ ریاست کے لیے اس حاکمیت اعلیٰ کے اقرار کو بے بنیاد قرار دینے کے سوا اور کیاہے؟

یہ بیانیہ وہ ’’سیکولرازم کی تبلیغ‘‘ کے مقابلے میں یااس کے متبادل کے طور پر پیش کررہے ہیں،، لیکن اول تویہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ’’سیکولرازم کی تبلیغ‘‘ اور ’’مذہبی بیانیہ‘‘ کے اس نکتے میں کیافرق ہوا؟ سیکولرازم بھی یہی کہتاہے کہ ’’ریاست کادین سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ دین ایک خالص انفرادی معاملہ ہے، وہ بھی یہی کہتاہے کہ پارلیمان پر کسی دین کی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، لہٰذا قرارداد مقاصد کی کوئی ضرورت نہیں اور یہی باتیںجناب غامدی صاحب کے اس نکتے میں بھی ارشاد فرمائی گئی ہیں، کیاعنوان بدل دینے سے حقیقت میں کوئی فرق آجاتاہے؟

پھریہ عجیب بات ہے کہ اس کے بعد آگے خودجناب غامدی صاحب نکتہ نمبر 8 میں فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کے ارشاد ’’امرھم شوری بینھم‘‘ کاتقاضا ہے کہ ملک میں ایک پارلیمان قائم ہونی چاہیے، اور ’’علماء ہوں یاریاست کی عدلیہ، پارلیمان سے کوئی بالاترنہیں ہوسکتا۔ ’’امرھم شوری بینھم‘‘ کااصول ہرفرد اور ادارے کوپابندکرتاہے کہ پارلیمان کے فیصلوں سے اختلاف کے باوجود عملاً اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیں، اسلام میں حکومت قائم کرنے اور اس کو چلانے کایہی ایک جائزطریقہ ہے، اس سے ہٹ کر جوحکومت قائم کی جائے گی، وہ ایک ناجائز حکومت ہوگی۔‘‘

ان دونوں باتوں کے مجموعے سے مطلب یہی نکلتاہے کہ پارلیمان وجود میں تو قرآنی حکم ’’امرھم شوری بینھم‘‘ کے تحت آئے گی، مگراس کے بعد اسے اس بات کاپابند نہیں کیاجاسکتا کہ وہ قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون نہ بنائے، البتہ ملک کے افراد اور ادارے اس بات کے پابند ہیں کہ وہ پارلیمان کے ہرفیصلے پر سرتسلیم خم کردیں۔ یہاں پہلاسوال تو یہ پیداہوتاہے کہ اگرریاست کانہ کوئی مذہب ہوتاہے، اور نہ پارلیمان کے فیصلوں کوقرآن وسنت کاپابند کیاجاسکتاہے، تو ’’امرھم شوری بینھم‘‘ کا قرآنی اصول اس کے لیے کس بنیاد پرلازم ہوگیا؟ اور یہ بات کس بنیاد پر کہی جارہی ہے کہ ’’اسلام میں حکومت قائم کرنے اور اس کو چلانے کا یہی ایک جائز طریقہ ہے‘‘ جبکہ ریاست کااسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے اگر پارلیمان مغربی ممالک کی طرح ہم جنس شادیوں کاقانون نافذ کردے، تو کیاقرآن کریم کاباہمی مشاورت کایہ اصول پھر بھی ’’ہرفرد اور ادارے کوپابندکرتاہے کہ پارلیمان کے فیصلوں سے اختلاف کے باوجود عملاًَ اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیں؟‘‘ اگر نہیں توکیوں؟ جبکہ پارلیمان پرکوئی پابندی نہیں کہ وہ قرآن وسنت کے خلاف قانون سازی نہ کرے؟

پھر جناب غامدی صاحب نے آگے اپنے نکتہ نمبر9 میں فرمایا کہ ’’دین کے ایجابی احکام میں سے یہ صرف نماز اور زکوٰۃ ہے جس کامطالبہ مسلمانوں کاکوئی نظم اجتماعی اگرچاہے تو قانون کی طاقت سے کرسکتاہے۔’’نظم اجتماعی‘‘ سے ان کی مراد غالباً حکومت ہی ہے، تو کیا اس کامطلب یہ ہے کہ وہ نماز کو بزور قانون لازمی قرار دے کر بے نمازیوں پر سزا جاری کرے؟ اگر یہ واقعی کوئی قرآن کریم کاحکم ہے کہ نماز کامطالبہ قانون کی طاقت سے کیاجائے، جیسا کہ انہوں نے فرمایا ہے، توپھر ’’اگر چاہے، کی جوشرط انہوں نے لگائی ہے، اس کامطلب تویہی ہے کہ اس قرآنی حکم پر عمل حکومت کی چاہت پرموقوف ہے، لہٰذا اگر وہ نہ چاہے تواس حکم پر عمل نہ کرے۔اس صورت میں سورہ احزاب کی اس آیت( نمبر 36) کاکیا مطلب ہوگاجس میںفرمایا گیاہے ’’اور جب اللہ اور اس کارسول کسی بات کافیصلہ کردیں تو کسی مومن مرد یاعورت کے لیے یہ گنجائش نہیں ہے کہ انہیں اپنے معاملے میںکوئی اختیار باقی رہے۔‘‘

آگے معاشرتی احکام کے حوالے سے اپنے نکتہ نمبر1میں وہ فرماتے ہیں ’’حکومت ان کی (عوام کی) رضا مندی کے بغیر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی ٹیکس ان پر عائد نہیں کرسکے گی، ان کے شخصی معاملات، یعنی نکاح، طلاق، تقسیم وراثت، لین دین اور اس نوعیت کے دوسرے امور اگر ان میں کوئی نزاع ہو تو اس کا فیصلہ اسلامی شریعت کے مطابق ہوگا۔‘‘یہاں پھر کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب ریاست کا کوئی مذہب نہیں اور اس پر قرآن و سنت یا شریعت کے مطابق قانون سازی کی کوئی پابندی نہیں، تو عدلیہ پر ان احکام میں شریعت ہی کے مطابق فیصلے کرنے کی پابندی کس بنیاد پر ہوگی؟ اگر ان معاملات میں پالیمان شریعت کے بجائے کسی اور قانون کی پابندی کا حکم دے تو اس کے سامنے نکتہ نمبر8کے تحت سر تسلیم کیوں خم نہ کیا جائے؟ دوسرا سوال یہ ہے یہ جو فرمایا گیا ہے کہ ’’ان کی رضامندی کے بغیر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی ٹیکس عائد نہیں کرے گی‘‘ ظاہر ہے کہ اس میں عوام کی رضا مندی سے مراد پارلیمان کی مرضی ہے، لہٰذا مذکورہ جملے کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ کوئی اور ٹیکس عائد کرنے کے لیے تو پارلیمان کی منظوری درکار ہے،، لیکن زکوٰۃ حکومتی سطح پر عائد کرنے کے لیے پارلیمان کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے، اگر یہی مقصود ہے، تو حکومت پارلیمان کے کسی قانون کے بغیر زکوٰۃ کس بنیاد پر وصول کرے گی اور اس کی اس اتھارٹی کا سرچشمہ کیا ہوگا۔ اگر وہ سرچشمہ قرآن کریم ہے تو کہنا ہوگا کہ قرآن کریم پارلیمان پر بالا دستی رکھتا ہے۔ پھر ریاست کا کوئی مذہب نہ ہونے کا اصول کہاں گیا؟ آگے انہوں نے فرمایا ہے: ’’ریاست کا کوئی مسلمان شہری اگر زنا، چوری، قتل، فساد فی الارض اور قذف کا ارتکاب کرے گا اور عدالت مطمئن ہو جائے گی کہ اپنے ذاتی، خاندانی، اور معاشرتی حالات کے لحاظ سے وہ کسی رعایت کا مستحق نہیں، تو اس پر وہ سزائیں نافذ کی جائے گی جو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی دعوت کو پورے شعور اور شرح صدر کے ساتھ قبول کر لینے کے بعد ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اپنی کتاب میں مقرر کر دی ہیں۔ یہاں دو سوال پھر پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ کیا ایسی صورت میں پارلیمان اور حکومت پر لازم ہے کہ وہ ایسے مسلمانوں پر یہ قرآنی سزائیں جاری کرے؟ اگر قرآن کریم کے حکم کے تحت لازم ہے تو جب پارلیمان پر قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی کوئی پابندی نہیں ہے، تو اس پر یہ پابندی کیسے لازم ہوگی کہ وہ قرآنی سزائیں ہی جاری کرے اور ان معاملات میں اپنی طرف سے کوئی اور سزا تجویز نہ کرے، یا ان میں سے کسی جرم (مثلاً زنا بالرضا) کو جائز قرار نہ دے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر یہ سزائیں قرآن کریم ہی کی بنیاد پر دی جائیں گی تو کیا قرآن کریم میں کوئی ایسی تفریق ہے کہ یہ سزائیں صرف ان مسلمانوں کے لیے ہیں جو شعور کے ساتھ اسلام کی دعوت کو قبول کریں، اور غیر مسلم چوروں، قاتلوں اور فساد فی الارض پھیلانے والوں کو ان سے مستثنیٰ رکھا جائے، جیسا کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ یہ سزائیں صرف مسلمانوں ہی کے لیے ہوں گی؟ انہوں نے اپنے اس ’’بیانیے‘‘میں یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’اسلام میں قومیت کی بنیاد اسلام نہیں ہے جس طرح کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے قرآن و حدیث میں کسی جگہ نہیں کہا گیا کہ مسلمان ایک قوم ہیں، یا انہیں ایک ہی قوم ہونا چاہیے۔‘‘ یہ وہی دو قومی نظریہ کا مسئلہ ہے جس کی بنیاد پر قائداعظم نے پاکستان کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔ یہاں مودبانہ گزارش یہ ہے کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں پر لغت یا عرف عام کے مطابق لفظ ’’قوم‘‘ کا اطلاق درست ہے یا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ مستقل سیاسی اور اجتماعی وحدت کے لحاظ سے تمام مسلمانوں کو (چاہے وہ کسی رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہوں) غیر مسلموں سے الگ سمجھنا اور اس بنیاد پر ان کے لیے الگ خطہ زمین کا مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں؟ قائداعظم نے پاکستان کا مطالبہ کرتے ہوئے جو دو قومی نظریہ پیش کیا تھا اور جس کی بنیاد پر آج ہم ایک الگ ملک کی حیثیت سے بیٹھے ہیں، اس کا مطلب یہی تھا، اس دو قومی نظریہ پر بھی یہ اعتراض کیا جاتا تھا کہ مسلمانوں کے لیے ’’قوم‘‘ کا لفظ استعمال کرنا لغت اور عرف عام کے اعتبار سے درست نہیں ہے،، لیکن ان کا مقصد ’’مستقل سیاسی وحدت ‘‘ تھا جس کی بنیاد پر اپنے اختیار سے کوئی حکومت قائم کی جائے۔ لغوی اعتبار سے تو تمام انبیاء علیہم السلام کی مخاطب ان کی قومیں ہی تھیں،، لیکن انہوں نے ان کی بنیاد پر کوئی مستقل سیاسی وحدت قائم نہیں کی، اگر کوئی ریاست قائم ہوئی تو وہ وطن اور رنگ و نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسلام کی بنیاد پر ہوئی، جیسے حضرت موسیٰ، حضرت دائودو سلیمان علیہم السلام کی حکومتیں اورخود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی حکومت، البتہ اس میں غیر مسلموں کو تمام شہری اور مذہبی حقوق برابر حاصل تھے۔

انہوںنے ایک اور بات اپنے نکتہ نمبر 2 میں یہ ارشاد فرمائی ہے کہ ’’ نہ خلافت کوئی دینی اصطلاح ہے، اور نہ عالمی سطح پراس کا قیام اسلام کاکوئی حکم ہے۔‘‘ قرآن کریم نے سورئہ بقرہ آیت نمبر 30 میں حضرت آدم علیہ اسلام کے تذکرے میں ارشاد فرمایا ہے کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ اورسورئہ ص آیت نمبر 26میں حضرت دائود علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔‘‘ نیز سورئہ نورآیت نمبر 55میں ارشاد فرمایاہے:’’ تمہیں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں، ا ور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ا نہیں ضرور زمین میں خلافت عطا فرمائے گا، جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو خلافت عطافرمائی تھی، اوران کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا۔ جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا فرمائے گا، وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیزکو شریک نہ ٹھہرائیں۔ ’’ اس کے علاوہ متعدد احادیث ہیں جن میں اسلامی ریاست کے امیرکو خلیفہ کہا گیا ہے۔ اوراس کی حکومت کو خلافت سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ قرآن و حدیث کے ان ارشادات کی بنا پر اسلامی لٹریچر اس اصطلاح سے بھرا ہوا ہے۔ فلسفہ تاریخ کے عبقری عالم ابن خلدونؒ ’’ خلافت‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ لوگوں کو شرعی طرز فکر کے مطابق چلانا جس سے ان کی آخرت کی مصلحتیں بھی پوری ہوں اوروہ دنیوی مصلحتیں بھی جن کانتیجہ آخرکار آخرت ہی کی بہتری ہوتا ہے۔’’ (مقدمہ ابن خلدون: باب 3 فصل 25ص189)

قرآن و حدیث کے ان ارشادات اورچودہ سو سال سے اس اصطلاح کے معروف و مشہور بلکہ متواتر ہونے کے باوجود یہ فرمانا کہ خلافت کوئی دینی اصطلاح نہیں ہے، اس پر تبصرے کے لیے میرے پاس مناسب الفاظ نہیں ہیں۔ وہ یہ فرماتے ہیں کہ ان کا یہ ’’ مذہبی بیانیہ ‘‘ دہشت گردی کے موجودہ مسائل کی ا صلاح کرسکتاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دستورپاکستان کو تلپٹ کرکے ان متضاد نکات کی بنیاد پر نئے سرے سے دستور بنایا جائے تو دہشت گرد اپنی دہشت گردی سے بازآجائیں گے یا ان کاخود بخود قلع قمع ہو جائے گا۔حقیقت اس کے برعکس یہ ہے کہ الحمد للہ ہمارے موجودہ دستور میں چند جزوی باتوں کے سوا کوئی خرابی نہیں ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کے جوہری احکام پر ٹھیک ٹھیک عمل نہیں ہورہا ہے ہمارے دستور میں جوبنیادی حقوق دیئے گئے ہیں وہ لوگوں کو پوری طرح حاصل نہیں ہیں، پالیسی کے جو اصول بنائے گئے ہیں ان پر ایک دن عمل نہیں ہوا صوبوں کو جو حقوق ملنے چاہئیں، وہ نہیں مل رہے عوام کو قدم قدم پر مشکلات، رشوت ستانی اور ظلم و ستم کے سامنا ہے، معیشت کے میدان میں اونچ نیچ حد سے بڑھی ہوئی ہے سرکاری دفتروں سے کام کرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، عدل و انصاف کے دروازے غریبوں کے لیے تقریباً بند ہیں دستور میں یہ لکھا ضرور ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور اس کے لیے دستور نے ایک میکنزم بھی تجویز کردیا ہے جس پر اگر ٹھیک ٹھیک عمل ہو تو وہ فرقہ واریت کا بھی سدباب کرسکتا ہے، لیکن اسے برسرکار لانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہو رہی یہ مجموعی صورتحال عوام میں مایوسی اور چڑ چڑاہٹ پیدا کرتی ہے اور شرپسند لوگوں کو یہ پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملتا ہے کہ یہ اصلاحات پرامن ذرائع سے نہیںہوسکتیں اور حکومتوں کے اس طرز عمل نے اس بات کو مزید ہوا دی ہے کہ جو مطالبہ شریفانہ طور سے و عظ و نصیحت اور مشورے کے طور پر کیا جائے حکومت اسے درخو ر اعتنا ہی نہیں سمجھتی اور لوگوں کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ کوئی مطالبہ اسی وقت قابل سماعت ہوسکتاجب وہ ہڑتال اور جلائو گھیرائو کے ساتھ کیا جائے۔ اسی کا آخری حل یہ ہے کہ حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھالیے جائیں ملک کے دشمن مسلسل اس فکر کو ہوا دے رہے ہیں، اور اسی بنیاد پر جذباتی نوجوانوں کو گمراہ کیا جارہا ہے لہٰذا مسئلہ دستور میں کسی جوہری تبدیلی کا نہیں، مسئلہ اس پر ٹھیک ٹھیک عمل کا ہے۔ اگر اس پر سنجیدگی سے عمل ہونے لگے، عوام کو اسلامی تعلیمات کے مطابق انصاف میسر ہو اور اسلام کے عادلانہ قوانین ان کی روح کے ساتھ نافذ کئے جائیں، مجرموں کو انصاف کے تمام تقاضوں کے ساتھ عبرت ناک سزائیں دی جائیں تو یہ مسلح تحریکیں اپنی موت آپ مر جائیں گی۔ خدا کے لیے نیا انتشار پھیلانے کے بجائے متحد ہو کر اس جہت میں کام کریں۔